بنگلورو۔11؍مارچ(ایس او نیوز) سابق وزیر اعلیٰ اور ریاستی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر جگدیش شٹر نے پانچ ریاستوں کے انتخابات کے نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ یو پی اور اتراکھنڈ میں وزیراعظم کی قیادت پر عوام نے بھرپور اعتماد ظاہر کیا ہے، یہ انتخابی نتیجہ کرناٹک اسمبلی کے اگلے انتخابات کا نقیب ہے۔ مگر اُدھر ریاست کے وزیر اعلیٰ سدرامیا نے ان باتوں سے اتفاق نہیں کیا، سدرامیا نے کہا کہ یو پی کا یہ نتیجہ مودی لہر قطعاً نہیں ہے۔
ہبلی میں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے شٹر نے کہاکہ اترپردیش میں بی جے پی نے توقع سے زیادہ کامیابی حاصل کی ہے، جو آنے والے دنوں میں ملکی سطح پر بی جے پی کی مضبوطی کی علامت ہے۔ اترپردیش کی تاریخ میں آج تک کسی سیاسی جماعت کو اتنی اکثریت نہیں ملی ہے۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم کی طرف سے نوٹ بندی کے فیصلے پر کانگریس کی نکتہ چینیوں کا عوام پر کوئی اثر نہیں ہوا، بلکہ اترپردیش کے نتائج نے ثابت کردیا ہے کہ نوٹ بندی کے فیصلے کو عوام کی تائید حاصل ہے، اور مودی کی قیادت کو ایک بار پھر ملک کے عوام نے تسلیم کرلیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یوپی انتخابات کے نتائج کا راست اثر کرناٹک پر بھی پڑے گا، انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگلے انتخابات میں ریاست کی بدعنوان کانگریس حکومت کو عوام باہر کا راستہ دکھائیں گے اور مودی کی قیادت میں جدوجہد کرکے کرناٹک میں بی جے پی کو دوبارہ اقتدار پر لایا جائے گا۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ اگلے انتخابات میں بی جے پی 150 سے زائد سیٹوں پر کامیابی حاصل کرے گی۔ اتنا ہی نہیں بلکہ ننجنگڈھ اور گنڈل پیٹ اسمبلی حلقوں کے ضمنی انتخابات میں بھی بی جے پی کامیابی حاصل کرے گی۔اس موقع پر ہبلی بی جے پی دفتر میں پارٹی کارکنوں نے مٹھائیاں تقسیم کرکے اترپردیش میں پارٹی کی جیت کا جشن منایا۔
اُدھر دوسری طرف اتر پردیش اسمبلی انتخابات کے نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سدرامیا نے کہاکہ یو پی کا یہ نتیجہ مودی لہر قطعاً نہیں ہے۔اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے سدرامیا نے کہاکہ مذہبی بنیاد پر ووٹروں کی صف بندی کرکے بی جے پی نے اترپردیش اور اتراکھنڈ میں کامیابی حاصل کی ہے نہ کہ مودی کی لہر کے ذریعہ۔ اگر مودی کی لہر واقعی ملک بھر میں ہوتی تو پنجاب،گوا اور منی پور میں بھی بی جے پی اقتدار پر آتی، گوا میں خود بی جے پی کے وزیر اعلیٰ لکشمی کانت پارسیکر چناؤ ہارگئے تو پھر وہاں مودی لہر نے کیوں کام نہیں کیا۔ انہوں نے کہاکہ اترپردیش میں اکھلیش یادو نے بہترین حکمرانی کی ، لیکن حکمران مخالف لہر کے سبب انہیں ہارکا منہ دیکھنا پڑا۔ اس کے علاوہ بی جے پی نے مذہبی بنیاد پر ہندو ووٹوں کو یکجا کیا اور اس کا فائدہ بھرپور طور پر حاصل کیا۔انہوں نے کہاکہ جمہوری نظام کے تحت سیاسی پارٹیوں کو ہار اور جیت کیلئے ہمہ وقت تیار رہنا چاہئے اور نتیجہ تسلیم کرنا چاہئے۔ حکمران مخالف لہر کا حوالہ دئے جانے پر جب صحافیوں نے سوال کیا کہ کیا کرناٹک میں حکمران مخالف لہر نہیں رہے گی؟۔ سدرامیا نے کہاکہ کرناٹک کے حالات دیگر ریاستوں کے مقابل الگ ہیں۔ 2008 میں اقتدار پر آنے کے بعد بی جے پی نے 2013تک ایسے حالات برپا کئے کہ اقتدار مخالف لہر کافائدہ کانگریس نے اٹھایا۔ اب 2018 کے انتخابات میں کانگریس اس طرح کی لہر کو پنپنے کا موقع نہیں دے گی اور دوبارہ ریاست کے اقتدار پر قابض ہوگی۔
یو پی کا نتیجہ کانگریس مکت بھارت کے خواب کی تکمیل: یڈیورپا
اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی کامیابی پر اپنی مسرت کا اظہار کرتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ اور ریاستی بی جے پی صدر بی ایس یڈیورپا نے کہاکہ وزیراعظم مودی نے کانگریس سے آزاد ہندوستان بنانے کا جو خواب دیکھا ہے اترپردیش اسمبلی انتخابات اس خواب کی تکمیل کا حصہ ہیں۔ یو پی انتخابات کے نتائج پر میڈیا کے سامنے اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے یڈیورپا نے کہاکہ وزیراعظم مودی اور پارٹی کے قومی صدر امیت شا کو یو پی کی جیت کا سہرا جانا چاہئے، اس نتیجہ نے یہ پیغام بھی دے دیا ہے کہ وزیراعظم کی طرف سے ملک میں کالے دھن ، رشوت خوری اور جعلی نوٹوں کے کاروبار پر روک لگانے کیلئے لاگو کی گئی نوٹ بندی کو بھی عوام نے تسلیم کرلیا ہے، یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ یو پی انتخابات کے نتائج کا اثر راست طور پر کرناٹک پر بھی پڑے گا، یڈیورپا نے کہاکہ ننجنگڈھ اور گنڈل پیٹ حلقوں کے ضمنی انتخابات میں بی جے پی بھاری جیت درج کرے گی اور اگلے اسمبلی انتخابات میں 150 سے زائد سیٹوں پر کامیاب ہوکر ریاست کے اقتدار پر قابض ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ مودی کا یہ نعرہ کہ سب کا ساتھ سب کا وکاس اترپردیش میں کام کرگیا ہے، تمام طبقات نے فراخدلی سے بی جے پی کو ووٹ دئے ہیں۔ انہی نتائج کے بل پر یہ یقینی طور پر کہا جاسکتاہے کہ اگلے لوک سبھا انتخابات میں بھی ملک میں مودی حکومت برقرار رہے گی۔ انہوں نے کہاکہ اترپردیش اور اترا کھنڈ میں بی جے پی کی مقبولیت کا طوفان کانگریس کو بہا لے گیا ہے۔اگلے انتخابات میں وزیراعلیٰ سدرامیا بھی اسی طوفان میں بہہ جائیں گے۔ریاستی بی جے پی صدر نے کہاکہ اترپردیش میں بی جے پی کو توقع سے بڑھ کر کامیابی ملی ہے، جس کی وجہ سے ریاست میں کانگریس حکومت کے خلاف بی جے پی اپنی تحریک میں غیر معمولی شدت لائے گی۔ انہوں نے کہاکہ یو پی انتخابات نے ایک اور بات بھی ثابت کردی ہے کہ ملک کے سیاسی منظر نامہ میں علاقائی سیاسی جماعتوں کا کوئی کام نہیں ہے۔ پنجاب ، گوا اور منی پور کے نتائج سے بھی یہی ثابت ہوا ہے کہ قومی سیاسی جماعتوں پر ہی عوام کا اعتماد ہے۔ اسی لئے ریاست میں جنتادل (ایس) کو وہ کسی سیاسی قوت کے طور پر تسلیم کرنا نہیں چاہتے۔ یڈیورپا نے دعویٰ کیا کہ آنے والے ضمنی انتخابات میں بھی بی جے پی بھاری جیت درج کرکے ریاست کے اقتدار پر قبضہ کرنے کیلئے اپنا راستہ ہموار کرے گی۔